تہران،12؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایران کی قومی ایئر لائن اور امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے مابین 80مسافر طیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پا یا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران شیطان بزرگ سے 50بوئنگ 737جہاز اور 30بوئنگ 777طیارے خریدے گا۔سن 1979کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان یہ اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا نے ایرانی ایئر لائن کے ڈائریکٹر جنرل فرہاد پرورش کے حوالے سے کہا کہ اس معاہدے کی مجموعی مالیت 16ارب 60کروڑ ڈالر ہے اور امریکی حکومت نے بھی اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ معاہدے کے تحت بوئنگ کمپنی اگلے دس سال کے دوران ایران کو مسافر طیارے فراہم کرے گی۔اس معاہدے سے ایران کی ایوی ایشن صنعت میں جدت آئی گی جو اس وقت عمر رسیدہ کمرشل جہازوں پر گزارا کر رہی ہے۔یاد رہے کہ رواں سال ستمبر میں امریکی حکومت نے طیارہ ساز کمپنی بوئنگ اور ایئر بس کو ایران سے معاہدے کرنے کی اجازت دی تھی۔
ایران اور مغربی ممالک کے مابین تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر14جولائی 2015ء کو معاہدے کے بعد ایران پر عائد عالمی پابندیاں ختم ہونا شروع ہوئیں تھیں۔ اس معاہدے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدوں کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر تنقید کی تھی اور کانگریس میں موجود رپبلکن نمائندوں نے اس معاہدے کی توثیق روکنے کی کوشش کی تھی۔گذشتہ ماہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک قانون کی منظوری دی جس کے تحت ایران کو کمرشل طیاروں کی فروخت کو روکا جا سکتا ہے۔ایرانی فضائی کمپنی Iran Airاور امریکی بوئنگ کمپنی کے درمیان پہلے تو 100مسافر طیاروں کے لیے 25ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ طے پایا تھا تاہم بعد ازاں طیاروں کی تعداد کم کرکے 80کردی گئی تھی۔ ایران ان میں سے 20جہاز وصول کرچکا ہے۔